عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، هُشَيْمٌ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، أَبِي رِمْثَةَ التَّيْمِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ بن أحمد، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ غَيْرَ مَرَّةٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ التَّيْمِيِّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي ابْنٌ لِي، فَقَالَ:" ابْنُكَ هَذَا؟" قُلْتُ: أَشْهَدُ بِهِ، قَالَ:" لَا يَجْنِي عَلَيْكَ، وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ"، قَالَ: وَرَأَيْتُ الشَّيْبَ أَحْمَرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے بیٹے کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھوڑی دیر گزرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا یہ آپ کا بیٹا ہے۔؟ میں نے کہا کہ میں اس کی گواہی دیتا ہوں اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو! تمہارے کسی جرم کا یہ ذمہ دار نہیں اور اس کے کسی جرم کے تم ذمہ دار نہیں ہو اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال سرخ دیکھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7113]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.