أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، ابْنِ أَبْجَرَ ، إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، أَبِي رِمْثَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ بن احمد، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنِ ابْنِ أَبْجَرَ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي وَأَنَا غُلَامٌ، إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ أَبِي: إِنِّي رَجُلٌ طَبِيبٌ، فَأَرِنِي هَذِهِ السِّلْعَةَ الَّتِي بِظَهْرِكَ، قَالَ:" وَمَا تَصْنَعُ بِهَا؟" قَالَ: أَقْطَعُهَا، قَالَ:" لَسْتَ بِطَبِيبٍ، وَلَكِنَّكَ رَفِيقٌ، طَبِيبُهَا الَّذِي وَضَعَهَا"، وَقَالَ غَيْرُهُ:" الَّذِي خَلَقَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ لڑکپن میں اپنے والد صاحب کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میرے والد صاحب نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں لوگوں میں ایک بڑا طبیب سمجھا جاتا ہوں کیا میں آپ کی پشت پر یہ جو گوشت ابھرا ہوا حصہ ہے مجھے دیکھائیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیا کرو گے؟ انہوں نے کہا کہ میں اسے کاٹ دوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم طبیب نہیں رفیق ہو اس کا معالج وہی ہے جس نے اسے بنایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7110]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.