أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ السَّدُوسِيِّ ، أَبَا رِمْثَةَ التَّيْمِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ السَّدُوسِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رِمْثَةَ التَّيْمِيَّ ، قَالَ: جِئْتُ مَعَ أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" ابْنُكَ هَذَا؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" أَتُحِبُّهُ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ، وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اپنے والد صاحب کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا یہ تمہارا بیٹا ہے؟ انہوں نے جواب دیا جی ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا تمہیں اس سے محبت ہے؟ عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہارے کسی جرم کا ذمہ دار نہیں اور تم اس کے کسی جرم کے ذمہ دار نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7107]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.