أَبُو سَعِيدٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ ، سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَهُوَ يَقُولُ: كُنْتُ أَبْتَاعُ التَّمْرَ مِنْ بَطْنٍ مِنَ الْيَهُودِ يُقَالُ لَهُمْ: بَنُو قَيْنُقَاعٍ، فَأَبِيعُهُ بِرِبْحِ الْآصُعِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا عُثْمَانُ، إِذَا اشْتَرَيْتَ فَاكْتَلْ، وَإِذَا بِعْتَ فَكِلْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے میں یہودیوں کے ایک خاندان اور قبیلہ سے ”جنہیں بنو قینقاع کہا جاتا تھا“، کھجوریں خریدتا تھا اور اپنا منافع رکھ کر آگے بیچ دیتا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معلوم ہوا تو فرمایا: ”عثمان! جب خریدا کرو تو اسے تول لیا کرو اور جب بیچا کرو تو تول کر بیچا کرو۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 560]
حکم دارالسلام
حديث حسن، فإنه من قديم حديث ابن لهيعة
الحكم: حديث حسن، فإنه من قديم حديث ابن لهيعة