بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 4447
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 4447
حدیث نمبر: 4447 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو دَاوُدَ ، سُفْيَانُ ، مَعْنٍ ، الْقَاسِمِ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَعْنٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ: اخْتَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ ، وَالْأَشْعَثُ، فَقَالَ ذَا: بِعَشَرَةٍ، وَقَالَ ذَا: بِعِشْرِينَ، قَالَ: اجْعَلْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ رَجُلًا، قَالَ: أَنْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِكَ، قَالَ: أَقْضِي بِمَا قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ، وَلَمْ تَكُنْ بَيِّنَةٌ، فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْبَائِعِ، أَوْ يَتَرَادَّانِ الْبَيْعَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قاسم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی چیز کی قیمت میں سیدنا ابن مسعود اور سیدنا اشعث رضی اللہ عنہما کا جھگڑا ہو گیا، ایک صاحب دس بتاتے تھے اور دوسرے بیس، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنے اور میرے درمیان کسی کو ثالث مقرر کر لو، انہوں نے کہا کہ میں آپ ہی کو ثالث مقرر کرتا ہوں، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر میں وہی فیصلہ کروں گا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر بائع اور مشتری (خریدنے والے اور بیچنے والے) کے درمیان اختلاف ہو جائے، گواہ کسی کے پاس نہ ہوں تو بائع (بچنے والے) کی بات کا اعتبار ہو گا، یا وہ دونوں نئے سرے سے بیع کر لیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4447]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، القاسم لم يدرك جده ابن مسعود .
الحكم: حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، القاسم لم يدرك جده ابن مسعود .
← پچھلی حدیث (4446) باب پر واپس اگلی حدیث (4448) →