وَكِيعٌ ، الْمَسْعُودِي ، الْقَاسِمِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْمَسْعُودِي ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ، فَالْقَوْلُ مَا يَقُولُ صَاحِبُ السِّلْعَةِ، أَوْ يَتَرَادَّانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”اگر بائع اور مشتری (خریدنے والے اور بیچنے والے) کا اختلاف ہو جائے اور دونوں میں سے کسی کے پاس گواہ نہ ہوں تو بائع (بچنے والے) کی بات کا اعتبار ہو گا ورنہ دونوں اپنی اپنی چیزیں واپس لے لیں۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4445]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، القاسم لم يدرك جده، عبدالرحمن بن عبد الله المسعودي أختلط ، وسماع وكيع منه قبل الاختلاط.
الحكم: حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، القاسم لم يدرك جده، عبدالرحمن بن عبد الله المسعودي أختلط ، وسماع وكيع منه قبل الاختلاط.