أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْر ، عَاصِمٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْر ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: خَطَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطًّا بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ:" هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ مُسْتَقِيمًا"، قَالَ: ثُمَّ خَطَّ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ:" هَذِهِ السُّبُلُ، وَلَيْسَ مِنْهَا سَبِيلٌ إِلَّا عَلَيْهِ شَيْطَانٌ يَدْعُو إِلَيْهِ"، ثُمَّ قَرَأَ: وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ سورة الأنعام آية 153".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک لکیر کھینچی اور فرمایا کہ ”یہ اللہ کا راستہ ہے“، پھر اس کے دائیں بائیں کچھ اور لکیریں کھینچیں اور فرمایا کہ ”یہ مختلف راستے ہیں، جن میں سے ہر راستے پر شیطان بیٹھا ہے اور ان راستوں پر چلنے کی دعوت دے رہا ہے“، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: « ﴿وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ﴾ » [الأنعام: 153] ”یہ میرا سیدھا راستہ ہے سو اس کی پیروی کرو، دوسرے راستوں کے پیچھے نہ پڑو، ورنہ تم اللہ کے راستے سے بھٹک جاؤ گے۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4437]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل عاصم.
الحكم: إسناده حسن من أجل عاصم.