أَبُو كَامِلٍ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا سَأَلَ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ ، وَهُوَ يُعَلِّمُ الْقُرْآنَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: كَيْفَ نَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ: فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15: أَذَالٌ أَمْ دَالٌ؟ فَقَالَ: لَا، بَلْ دَالٌ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَؤُهَا مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15 دَالًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابواسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو اسود بن یزید سے - جو کہ لوگوں کو مسجد میں قرآن پڑھا رہے تھے - یہ پوچھتے ہوئے دیکھا کہ آپ اس حرف «فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ» کو دال کے ساتھ پڑھتے ہیں یا ذال کے ساتھ؟ انہوں نے فرمایا: دال کے ساتھ، میں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ لفظ دال کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4401]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4871، م: 823.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4871، م: 823.