بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 4307
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 4307
حدیث نمبر: 4307 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، زَائِدَةَ ، سِمَاكٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَرَيْنَا لَيْلَةً مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ امْتَسَسْنَا الْأَرْضَ فَنِمْنَا وَرَعَتْ رِكَابُنَا؟ قَالَ: فَفَعَلَ، قَالَ: فَقَالَ:" لِيَحْرُسْنَا بَعْضُكُمْ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقُلْتُ: أَنَا أَحْرُسُكُمْ، قَالَ: فَأَدْرَكَنِي النَّوْمُ فَنِمْتُ، لَمْ أَسْتَيْقِظْ إِلَّا وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ، وَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بِكَلَامِنَا،" فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سفر پر تھے، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو زمین پر پڑ کر سو جائیں اور ہماری سواریاں چر سکیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اجازت دیتے ہوئے فرمایا کہ تم میں سے کسی کو پہرہ داری کرنی چاہئے، میں نے اپنے آپ کو پیش کر دیا لیکن مجھے بھی نیند آ گئی، اور اس وقت آنکھ کھلی جب سورج طلوع ہو چکا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری باتوں کی آواز سن کر بیدار ہوئے، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان کہی اور اقامت کہی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4307]
حکم دارالسلام
إسناده حسن إن ثبت سماع عبدالرحمن من أبيه فقد سمع من أبيه شيئا يسيرا.
الحكم: إسناده حسن إن ثبت سماع عبدالرحمن من أبيه فقد سمع من أبيه شيئا يسيرا.
← پچھلی حدیث (4306) باب پر واپس اگلی حدیث (4308) →