يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَجَّاجٌ ، زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دِيَةِ الْخَطَإِ عِشْرِينَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَعِشْرِينَ ابْنَ مَخَاضٍ، وَعِشْرِينَ ابْنَةَ لَبُونٍ، وَعِشْرِينَ حِقَّةً، وَعِشْرِينَ جَذَعَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قتل خطا کی دیت میں بیس بنت مخاض، بیس ابن مخاض مذکر، بیس بنت لبون، بیس حقے اور بیس جذعے مقرر فرمائے ہیں۔
فائدہ: یہ فقہا کی اصطلاحات ہیں جس کے مطابق بنت مخاض یا ابن مخاض اس اونٹ کو کہتے ہیں جو دوسرے سال میں لگ جائے، بنت لبون اس اونٹنی کو کہتے ہیں جو تیسرے سال میں لگ جائے، حقہ چوتھے سال والی کو اور جذعہ پانچویں سال والی اونٹنی کو کہتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4303]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، حجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن، وخشف بن مالك جهله غير واحد.
الحكم: إسناده ضعيف، حجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن، وخشف بن مالك جهله غير واحد.