يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي فَزَارَةَ ، أَبِي زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنِي إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَعَكَ طَهُورٌ؟" قُلْتُ: لَا، قَالَ:" فَمَا هَذَا فِي الْإِدَاوَةِ؟" قُلْتُ: نَبِيذٌ، قَالَ" أَرِنِيهَا تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ، وَمَاءٌ طَهُورٌ"، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا وَصَلَّى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”عبداللہ! کیا تمہارے پاس پانی ہے؟“ میں نے عرض کیا کہ نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ”اس برتن میں کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: نبیذ ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مجھے دکھاؤ، یہ پینے کی چیز بھی ہے اور طہارت بخش بھی ہے“، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اس سے وضو کر کے نماز پڑھائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4301]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى زيد.
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى زيد.