مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، أَبَا وَائِلٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ! قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَاحْمَرَّ وَجْهُهُ قَالَ شُعْبَةُ: وَأَظُنُّهُ قَالَ: وَغَضِبَ حَتَّى وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أُخْبِرْهُ، قَالَ شُعْبَةُ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ:" يَرْحَمُنَا اللَّهُ وَمُوسَى شَكَّ شُعْبَةُ فِي: يَرْحَمُنَا اللَّهُ وَمُوسَى، قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا، فَصَبَرَ". هَذِهِ لَيْسَ فِيهَا شَكٌّ:" قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَصَبَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ چیزیں تقسیم فرمائیں، ایک آدمی کہنے لگا کہ یہ تقسیم ایسی ہے جس سے اللہ کی رضا حاصل کرنا مقصود نہیں ہے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ بات ذکر کر دی جس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روئے انور کا رنگ سرخ ہو گیا، میں تمنا کرنے لگا کہ کاش! میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات بتائی ہی نہ ہوتی، بہرحال! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا: ”حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، انہیں اس سے بھی زیادہ ستایا گیا تھا لیکن انہوں نے صبر ہی کیا تھا۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4204]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3405.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3405.