جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ مِمَّا يُذَكِّرُ كُلَّ يَوْمِ الْخَمِيسِ، فَقِيلَ لَهُ: لَوَدِدْنَا أَنَّكَ ذَكَّرْتَنَا كُلَّ يَوْمٍ، قَالَ: إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُمِلَّكُمْ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ" يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ، كَرَاهِيَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابووائل کہتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہر جمعرات کو وعظ فرمایا کرتے تھے، ان سے کسی نے کہا: ہماری خواہش ہے کہ آپ ہمیں روزانہ وعظ فرمایا کریں، انہوں نے فرمایا: میں تمہیں اکتاہٹ میں مبتلا کرنا اچھا نہیں سمجھتا، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی وعظ و نصیحت میں اسی وجہ سے بعض دنوں کو خالی چھوڑ دیتے تھے کہ وہ بھی ہمارے اکتا جانے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4060]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 70، م: 2821.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 70، م: 2821.