يَعْلَى ، عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ، الْعَيْزَارِ ، ابْنَ مَسْعُودٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ، عَنِ الْعَيْزَارِ ، مِنْ تِنْعَةَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا وُجِّهَتْ اللَّعْنَةُ، تَوَجَّهَتْ إِلَى مَنْ وُجِّهَتْ إِلَيْهِ، فَإِنْ وَجَدَتْ فِيهِ مَسْلَكًا، وَوَجَدَتْ سَبِيلًا، أحَلَّتْ بِهِ، وَإِلَّا جَاءَتْ إِلَى رَبِّهَا، فَقَالَتْ: يَا رَبِّ، إِنَّ فُلَانًا وَجَّهَنِي إِلَى فُلَانٍ، وَإِنِّي لَمْ أَجِدْ عَلَيْهِ سَبِيلًا، وَلَمْ أَجِدْ فِيهِ مَسْلَكًا، فَمَا تَأْمُرُنِي؟ فَقَالَ: ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ”جس شخص پر لعنت بھیجی گئی ہو، لعنت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے، اگر وہاں تک پہنچنے کا راستہ مل جائے تو وہ اس پر واقع ہو جاتی ہے، ورنہ بارگاہ الٰہی میں عرض کرتی ہے کہ پروردگار! مجھے فلاں شخص کی طرف متوجہ کیا گیا لیکن میں نے اس تک پہنچنے کا راستہ نہ پایا، اب کیا کروں؟ اس سے کہا جاتا ہے کہ ”جہاں سے آئی ہے وہیں واپس چلی جا۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4036]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، العيزار التنعي لم يدرك ابن مسعود.
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، العيزار التنعي لم يدرك ابن مسعود.