عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ:" صَلِّ الصَّلَاةَ لِمَوَاقِيتِهَا"، قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ:" بِرُّ الْوَالِدَيْنِ"، قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ:" ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، وَلَوْ اسْتَزَدْتُهُ، لَزَادَنِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ بارگاہ الٰہی میں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے وقت پر نماز پڑھنا“، میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: ”والدین کے ساتھ حسن سلوک“، میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: ”اللہ کے راستے میں جہاد“، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ باتیں مجھ سے بیان فرمائیں، اگر میں مزید سوالات کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے ان کا جواب بھی مرحمت فرماتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3998]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 527، م: 85.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 527، م: 85.