أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو عَقِيلٍ ، مُجَالِدٌ ، الشَّعْبِيِّ ، مَسْرُوقٍ ، ابْنَ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ يُقْرِئُنَا، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، هَلْ حَدَّثَكُمْ نَبِيُّكُمْ، كَمْ يَكُونُ مِنْ بَعْدِهِ خَلِيفَةً؟ قَالَ: نَعَمْ، كَعِدَّةِ نُقَبَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ہمیں قرآن پڑھا رہے تھے، اسی اثناء میں ایک آدمی آ کر کہنے لگا: اے ابوعبدالرحمن! کیا آپ لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بتایا تھا کہ اس امت میں کتنے خلفاء ہوں گے؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں! (ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا تھا اور) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”بارہ خلفاء ہوں گے، نقباء بنی اسرائیل کی تعداد کی طرح۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3859]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف مجالد.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف مجالد.