أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، صِلَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ مُسَيْلِمَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ:" أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟" فَقَالَ لَهُ شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا أَنِّي لَا أَقْتُلُ الرُّسُلَ أَوْ لَوْ قَتَلْتُ أَحَدًا مِنَ الرُّسُلِ لَقَتَلْتُكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسیلمہ کذاب کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس قاصد آیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا تھا: ”کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے کہا کہ ہم تو مسیلمہ کے اللہ کے پیغمبر ہونے کی گواہی دیتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں قاصدوں کو قتل کرتا ہوتا تو میں تم دونوں کی گردن اڑا دیتا۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3851]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك بن عبدالله النخعي.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك بن عبدالله النخعي.