عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، هَمَّامٍ ، عَاصِمٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَقْرَأُ حم الثَّلَاثِينَ يَعْنِي الْأَحْقَافَ فَقَرَأَ حَرْفًا، وَقَرَأَ رَجُلٌ آخَرُ حَرْفًا، لَمْ يَقْرَأْهُ صَاحِبُهُ، وَقَرَأْتُ أَحْرُفًا، فَلَمْ يَقْرَأْهَا صَاحِبَيَّ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْنَاهُ، فَقَالَ:" لَا تَخْتَلِفُوا، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِاخْتِلَافِهِمْ"، ثُمَّ قَالَ:" انْظُرُوا أَقْرَأَكُمْ رَجُلًا، فَخُذُوا بِقِرَاءَتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک آدمی کو سورہ احقاف کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، وہ ایک مختلف طریقے سے اس کی قراءت کر رہا تھا، دوسرا آدمی دوسرے طریقے سے اسے پڑھ رہا تھا جو اس کے ساتھی سے مختلف تھا، اور میں اسے تیسرے طریقے سے پڑھ رہا تھا جس پر وہ دونوں نہ پڑھ رہے تھے، ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچے اور انہیں اس کی اطلاع دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اختلاف نہ کرو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے“، پھر فرمایا: ”یہ دیکھ لیا کرو کہ تم میں زیادہ بڑا قاری کون ہے، اس کی تلاوت اپنا لیا کرو۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3803]
حکم دارالسلام
صحيح، إسناده حسن، خ: 2410.
الحكم: صحيح، إسناده حسن، خ: 2410.