أَبُو النَّضْرِ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، شَيْبَانُ ، عَاصِمٍ ، زِرٍّ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا النَّاسُ يَنْتَظِرُونَ الصَّلَاةَ، قَالَ:" أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ هَذِهِ الْأَدْيَانِ أَحَدٌ يَذْكُرُ اللَّهَ هَذِهِ السَّاعَةَ غَيْرُكُمْ"، قَالَ: وَأَنْزَلَ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ: لَيْسُوا سَوَاءً مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ حَتَّى بَلَغَ وَمَا يَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ يُكْفَرُوهُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ سورة آل عمران آية 113 - 115.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز عشا میں کافی تاخیر کر دی، پھر جب باہر مسجد کی طرف نکلے تو لوگوں کو نماز کا منتظر پایا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت روئے زمین پر کسی دین سے تعلق رکھنے والے اللہ کو یاد نہیں کر رہے سوائے تمہارے“، اور اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں: « ﴿لَيْسُوا سَوَاءً مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ . . . . . وَمَا يَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ يُكْفَرُوهُ وَاللّٰهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ﴾ [آل عمران: 113-115] » ”سب اہل کتاب برابر نہیں . . . . . اور تم جو نیکی کرو گے اس کا انکار نہیں کیا جائے گا اور اللہ متقیوں کو خوب جانتا ہے۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3760]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.