أَبُو كَامِلٍ ، زُهَيْرٌ ، يَحْيَى الْجَابِرُ أَبُو الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، أَبَا مَاجدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْجَابِرُ أَبُو الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، أَنَّ أَبَا مَاجدٍ ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ حَدَّثَهُ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : سَأَلْنَا نَبِيَّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّيْرِ بِالْجِنَازَةِ؟ فَقَالَ:" السَّيْرُ مَا دُونَ الْخَبَبِ، فَإِنْ يَكُ خَيْرًا تُعْجَلْ إِلَيْهِ أَوْ قَالَ: لِتُعْجَلْ إِلَيْهِ، وَإِنْ يَكُ سِوَى ذَاكَ، فَبُعْدًا لِأَهْلِ النَّارِ، الْجِنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ، وَلَا تَتْبَعُ، لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَقَدَّمَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جنازے کے ساتھ چلنے کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ رفتار جو دوڑنے کے زمرے میں نہ آتی ہو، اگر وہ نیکوکار رہا ہوگا تو اس کے اچھے انجام کی طرف اسے جلد لے جایا جا رہا ہوگا، اور اگر وہ ایسا نہ ہوا تو اہل جہنم کو دور ہی ہونا چاہئے، اور جنازہ کو متبوع ہونا چاہئے نہ کہ تابع (جنازے کو آگے اور چلنے والوں کو اس کے پیچھے ہونا چاہئے)۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3734]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى ماجد، ويحيى الجابر ضعيف.
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى ماجد، ويحيى الجابر ضعيف.