بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 3664
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 3664
حدیث نمبر: 3664 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
ابْنُ نُمَيْرٍ ، مُجَالِدٍ ، عَامِرٍ ، الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ، فَجِئْنَا نَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَلَمَّا رَكَعَ النَّاسُ، رَكَعَ عَبْدُ اللَّهِ وَرَكَعْنَا مَعَهُ، وَنَحْنُ نَمْشِي، فَمَرَّ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ رَاكِعٌ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، سَأَلَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ: لِمَ قُلْتَ حِينَ سَلَّمَ عَلَيْكَ الرَّجُلُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ، إِذَا كَانَتْ التَّحِيَّةُ عَلَى الْمَعْرِفَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مسجد میں نماز کھڑی ہو گئی، ہم لوگ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ صفوں میں شامل ہونے کے لئے چلے جا رہے تھے، جب لوگ رکوع میں گئے تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی رکوع میں چلے گئے، انہیں دیکھ کر ہم نے بھی رکوع کر لیا، اس وقت بھی ہم لوگ چل رہے تھے، ایک آدمی اسی اثنا میں سامنے سے گزرا اور کہنے لگا: السلام علیک یا ابا عبدالرحمن! انہوں نے رکوع کی حالت میں فرمایا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، نماز سے فارغ ہونے کے بعد کسی نے ان سے پوچھا کہ جب فلاں شخص نے آپ کو سلام کیا تھا تو آپ نے یہ کیوں کہا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ بات علامات قیامت میں سے ہے کہ سلام صرف جان پہچان کے لوگوں کو کیا جانے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3664]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد
← پچھلی حدیث (3663) باب پر واپس اگلی حدیث (3665) →