يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، مُجَاهِدًا ، أَبَا عُبَيْدَةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّ مُجَاهِدًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ لَيْلَةَ عَرَفَةَ قَبْلَ يَوْمِ عَرَفَةَ، إِذْ سَمِعْنَا حِسَّ الْحَيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْتُلُوا"، قَالَ: فَقُمْنَا، قَالَ: فَدَخَلَتْ شَقَّ جُحْرٍ، فَأُتِيَ بِسَعَفَةٍ فَأُضْرِمَ فِيهَا نَارًا، وَأَخَذْنَا عُودًا، فَقَلَعْنَا عَنْهَا بَعْضَ الْجُحْرِ، فَلَمْ نَجِدْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعُوهَا، وَقَاهَا اللَّهُ شَرَّكُمْ، كَمَا وَقَاكُمْ شَرَّهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ شب عرفہ میں - جو یوم عرفہ سے پہلے تھی - مسجد خیف میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمیں سانپ کی آواز محسوس ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“، ہم کھڑے ہوئے تو وہ ایک بل کے سوراخ میں گھس گیا، ایک چنگاری لا کر اس بل کو آگ لگا دی گئی، پھر ہم نے ایک لکڑی لے کر اس سے اس بل کو کریدنا شروع کیا تو وہ سانپ ہمیں نہ ملا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”چھوڑو، اللہ نے اسے تمہارے شر سے بچا لیا جیسے تمہیں اس کے شر سے بچا لیا۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3649]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1830 ، م : 2234
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1830 ، م : 2234