بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 3627
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 3627
حدیث نمبر: 3627 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدِيثَيْن: أَحَدَهُمَا عَنْ نَفْسِهِ، وَالْآخَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ :" إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَأَنَّهُ فِي أَصْلِ جَبَلٍ يَخَافُ أَنْ يَقَعَ عَلَيْهِ، وَإِنَّ الْفَاجِرَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَذُبَابٍ وَقَعَ عَلَى أَنْفِهِ"، فَقَالَ لَهُ هَكَذَا، فَطَارَ. قَالَ: قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَلَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ أَحَدِكُمْ، مِنْ رَجُلٍ خَرَجَ بِأَرْضٍ دَوِّيَّةٍ مَهْلَكَةٍ، مَعَهُ رَاحِلَتُهُ عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ وَزَادُهُ وَمَا يُصْلِحُهُ، فَأَضَلَّهَا، فَخَرَجَ فِي طَلَبِهَا، حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَلَمْ يَجِدْهَا، قَالَ: أَرْجِعُ إِلَى مَكَانِي الَّذِي أَضْلَلْتُهَا فِيهِ، فَأَمُوتُ فِيهِ، قَالَ: فَأَتَى مَكَانَهُ، فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ، فَاسْتَيْقَظَ، فَإِذَا رَاحِلَتُهُ عِنْدَ رَأْسِهِ، عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ وَزَادُهُ وَمَا يُصْلِحُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حارث بن سوید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں دو حدیثیں سنائیں، ایک اپنی طرف سے اور ایک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے تو یہ فرمایا کہ مومن اپنے گناہوں کو ایسے سمجھتا ہے کہ گویا وہ کسی پہاڑ کی کھوہ میں ہو اور اسے اندیشہ ہو کہ کہیں پہاڑ اس پر گر نہ پڑے، اور فاجر آدمی اپنے گناہوں کو ایسے سمجھتا ہے جیسے اس کی ناک پر مکھی بیٹھ گئی ہو، اس نے اسے اشارہ کیا اور وہ اڑ گئی۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تم میں سے کسی کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو سفر کے دوران کسی سنسان اور مہلک علاقے سے گزرے، اس کے ساتھ سواری بھی ہو جس پر اس کا کھانا پینا ہو، زاد راہ ہو اور ضرورت کی چیزیں ہوں، اور وہ اچانک گم ہو جائیں، وہ ان کی تلاش میں نکلے اور جب اسے محسوس ہو کہ اب اس کی موت کا وقت قریب ہے لیکن سوای نہ ملے تو وہ اپنے دل میں کہے کہ میں اسی جگہ واپس چلتا ہوں جہاں سے اونٹنی گم ہوئی تھی، وہیں جا کر مروں گا، چنانچہ وہ اپنی جگہ آ جائے، وہاں پہنچ کر اسے نیند آ جائے، جب وہ بیدار ہو تو اس کی سواری اس کے سرہانے کھڑی ہوئی ہو جس پر اس کا کھانا پینا، زاد راہ اور ضرورت کی تمام چیزیں بھی موجود ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3627]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6308، م: 2744
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6308، م: 2744
← پچھلی حدیث (3626) باب پر واپس اگلی حدیث (3628) →