أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا نَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ، فَقَالَ:" إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبْئًا"، قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: دُخٌّ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اخْسَأْ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ"، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَهُ، قَالَ:" لَا، إِنْ يَكُنْ الَّذِي تخَافُ، فَلَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چلے جا رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ابن صیاد پر گزر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”میں نے تیرے بوجھنے کے لئے اپنے ذہن میں ایک بات رکھی ہے، بتا، وہ کیا ہے؟“ وہ کہنے لگا: دخ، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”دور ہو، تو اپنی حیثیت سے آگے نہیں بڑھ سکتا“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن ماروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، اگر یہ وہی ہے جس کا تمہیں اندیشہ ہے تو تم اسے قتل کرنے پر قادر نہ ہو سکو گے۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3610]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2924
الحكم: إسناده صحيح، م: 2924