بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 339
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 339
سُفْيَانُ ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ فَمَا رَأَيْتُ مَوْضِعًا، فَمَكَثْتُ سَنَتَيْنِ، فَلَمَّا كُنَّا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، وَذَهَبَ لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ، فَجَاءَ وَقَدْ قَضَى حَاجَتَهُ، فَذَهَبْتُ أَصُبُّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ، قُلْتُ:" يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَنْ الْمَرْأَتَانِ اللَّتَانِ تَظَاهَرَتَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: عَائِشَةُ، وَحَفْصَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے اس بات کی بڑی آرزو تھی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے (نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ان دو ازواج مطہرات کے بارے) سوال کروں، لیکن ہمت نہیں ہوتی تھی اور دو سال گزر گئے، حتی کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حج کے لئے تشریف لے گئے، میں بھی ان کے ساتھ تھا، راستے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے ہٹ کر چلنے لگے، میں بھی پانی کا برتن لے کر ان کے پیچھے چلا گیا، انہوں نے اپنی طبعی ضرورت پوری کی اور جب واپس آئے تو میں نے ان کے ہاتھوں پر پانی ڈالا اور عرض کیا: اے امیر المؤمنین! وہ دو عورتیں کون ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر غالب آنا چاہتی تھیں؟ انہوں نے فرمایا کہ عائشہ اور حفصہ (رضی اللہ عنہما)۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 339]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4914، م:1479
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4914، م:1479
← پچھلی حدیث (338) باب پر واپس اگلی حدیث (340) →