عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ، وَأَنْزَلَ مَعَهُ الْكِتَابَ، فَكَانَ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ: آيَةُ الرَّجْمِ، فَرَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ. ثُمَّ قَالَ: قَدْ كُنَّا نَقْرَأُ: وَلَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ فَإِنَّهُ كُفْرٌ بِكُمْ أَوْ إِنَّ كُفْرًا بِكُمْ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُطْرُونِي كَمَا أُطْرِيَ ابْنُ مَرْيَمَ، وَإِنَّمَا أَنَا عَبْدٌ، فَقُولُوا: عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ"، وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ:" كَمَا أَطْرَتْ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا: اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا: ان پر کتاب نازل فرمائی، اس میں رجم کی آیت بھی تھی جس کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی رجم کیا تھا اور ہم نے بھی رجم کیا تھا، پھر فرمایا کہ ہم لوگ یہ حکم بھی پڑھتے تھے کہ اپنے آباؤ اجداد سے بے رغبتی ظاہر نہ کرو کیونکہ یہ تمہاری جانب سے کفر ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس طرح حد سے آگے مت بڑاؤ جیسے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا، میں تو ایک بندہ ہوں، اس لئے یوں کہا کرو کہ وہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 331]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2462، م: 1691
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2462، م: 1691