عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ ، صَفْوَانُ ، أَبُو الْمُخَارِقِ زُهَيْرُ بْنُ سَالِمٍ ، عُمَرُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمُخَارِقِ زُهَيْرُ بْنُ سَالِمٍ : أَنَّ عُمَيْرَ بْنَ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ وَلَّاهُ عُمَرُ حِمْصَ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ عُمَرُ يَعْنِي لِكَعْبٍ:" إِنِّي أَسْأَلُكَ عَنْ أَمْرٍ فَلَا تَكْتُمْنِي، قَالَ: وَاللَّهِ لَا أَكْتُمُكَ شَيْئًا أَعْلَمُهُ، قَالَ: مَا أَخْوَفُ شَيْءٍ تَخَوَّفُهُ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَئِمَّةً مُضِلِّينَ، قَالَ عُمَرُ : صَدَقْتَ، قَدْ أَسَرَّ ذَلِكَ إِلَيَّ وَأَعْلَمَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عمیر بن سعید کو حمص کا گورنر مقرر فرما رکھا تھا، ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: میں تم سے ایک سوال پوچھتا ہوں، مجھ سے کچھ نہ چھپانا، انہوں نے عرض کیا کہ مجھے جس چیز کا علم ہو گا، اسے نہیں چھپاؤں گا، فرمایا: امت مسلمہ کے حوالے سے تمہیں سب سے زیادہ خطرناک بات کیا معلوم ہوتی ہے؟ عرض کیا: گمراہ کن ائمہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ نے سچ کہا، مجھے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بتائی تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 293]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف زهير بن سالم ولم يسمع من عمر
الحكم: إسناده ضعيف لضعف زهير بن سالم ولم يسمع من عمر