عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، قَالَتْ: دَخَلْتُ أَنَا وَخَالَتِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهَا أَسْوِرَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ لَنَا:" أَتُعْطِيَانِ زَكَاتَهُ؟"، قَالَتْ: فَقُلْنَا: لَا، قَالَ: " أَمَا تَخَافَانِ أَنْ يُسَوِّرَكُمَا اللَّهُ أَسْوِرَةً مِنْ نَارٍ؟ أَدِّيَا زَكَاتَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوئی، جب میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نظر میرے ان دو کنگنوں کے اوپر پڑی جو میں نے پہنے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟“ ہم نے عرض کیا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتیں کہ اللہ ان کے بدلے میں تمہیں آگ کے دو کنگن پہنائے، اس کی زکوٰۃ ادا کیا کرو۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27614]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن عاصم، وشهر بن حوشب
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن عاصم، وشهر بن حوشب