مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، دَاوُدُ الْأَوْدِيُّ ، شَهْرٍ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا دَاوُدُ الْأَوْدِيُّ , عَنْ شَهْرٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَايِعَهُ , فَدَنَوْتُ وَعَلَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ , فَبَصُرَ بِبَصِيصِهِمَا , فَقَالَ: " أَلْقِي السِّوَارَيْنِ يَا أَسْمَاءُ , أَمَا تَخَافِينَ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ بِسِوَارٍ مِنْ نَارٍ؟" , قَالَتْ: فَأَلْقَيْتُهُمَا , فَمَا أَدْرِي مَنْ أَخَذَهُمَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بیعت کرنے حاضر ہوئی، جب میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نظر میرے ان دو کنگنوں کے اوپر پڑی جو میں نے پہنے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اسماء! یہ دونوں کنگن اتار دو، کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتیں کہ اللہ ان کے بدلے میں تمہیں آگ کے دو کنگن پہنائے“، چنانچہ میں نے انہیں اتار دیا اور مجھے یاد نہیں کہ انہیں کس نے لے لیا تھا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27563]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف داود، و شهر بن حوشب
الحكم: إسناده ضعيف لضعف داود، و شهر بن حوشب