ابْنُ نُمَيْرٍ ، فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ ، طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ ، أُمَّ الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ , قَالَ: سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ , قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ , قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " إِنَّهُ يُسْتَجَابُ لِلْمَرْءِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ لِأَخِيهِ , فَمَا دَعَا لِأَخِيهِ , بِدَعْوَةٍ إِلَّا قَالَ الْمَلَكُ: وَلَكَ بِمِثْلٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام درداء بحوالہ ابودرداء نقل کرتی ہیں کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان اپنے بھائی کی غیرموجودگی میں اس کی پیٹھ پیچھے جو دعاء کرتا ہے وہ قبول ہوتی ہے اور اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ اس مقصد کے لئے مقرر ہوتا ہے جب بھی وہ اپنے بھائی کے لئے خیر کی دعاء مانگے تو وہ اس پر آمین کہتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ تہ میں بھی یہی نصیب ہو۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27558]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد وهم ابن نميرفيه بإثبات سماع أم الدرداء من النبيي صلى الله عليه و آله وسلم، م: 2732
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد وهم ابن نميرفيه بإثبات سماع أم الدرداء من النبيي ﷺ، م: 2732