حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَاهبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبَا الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ وَاهبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ , دَخَلَ الْجَنَّةَ" , قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى , وَإِنْ سَرَقَ؟! قَالَ:" وَإِنْ زَنَى , وَإِنْ سَرَقَ" , قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى , وَإِنْ سَرَقَ؟! قَالَ:" وَإِنْ زَنَى , وَإِنْ سَرَقَ" , قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى , وَإِنْ سَرَقَ؟! قَالَ:" وَإِنْ زَنَى , وَإِنْ سَرَقَ , عَلَى رَغْمِ أَنْفِ أَبِي الدَّرْدَاءِ" , قَالَ: فَخَرَجْتُ لِأُنَادِيَ بِهَا فِي النَّاسِ , قَالَ: فَلَقِيَنِي عُمَرُ , فَقَالَ: ارْجِعْ , فَإِنَّ النَّاسَ إِنْ عَلِمُوا بِهَذِهِ , اتَّكَلُوا عَلَيْهَا , فَرَجَعْتُ , فَأَخْبَرْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَ عُمَر" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو بندہ بھی لا الہ الا اللہ کا اقرار کرے اور اسی اقرار پر دنیا سے رخصت ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا، میں نے پوچھا اگرچہ وہ بدکاری اور چوری کرتا پھرے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! اگرچہ وہ بدکاری اور چوری ہی کرے، یہ سوال جواب تین مرتبہ ہوئے، چوتھی مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! اگرچہ ابودردا کی ناک خاک آلود ہوجائے، حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں لوگوں میں اس کی منادی کرنے کے لئے نکلا تو راستے میں حضرت عمر مل گئے، انہوں نے فرمایا واپس چلے جاؤ، اگر لوگوں کو یہ بات پتہ چل گئی تو وہ اسی پر بھروسہ کرکے بیٹھ جائیں گے، چنانچہ میں نے واپس آکر نبی کو اس کی اطلاع دی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عمر سچ کہتے ہیں۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27491]
حکم دارالسلام
صحيح لكن من حديث أبى ذر، دون القصة من عمر، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، ولانقطاعه بين واهب و أبى الدرداء
الحكم: صحيح لكن من حديث أبى ذر، دون القصة من عمر، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، ولانقطاعه بين واهب و أبى الدرداء