يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سُبَيْعَةَ بِنْتِ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ فَسَأَلْتُهَا عَنْ أَمْرِهَا؟ فَقَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ سَعْدِ ابْنِ خَوْلَةَ فَتُوُفِّيَ عَنِّي , فَلَمْ أَمْكُثْ إِلَّا شَهْرَيْنِ حَتَّى وَضَعْتُ , قَالَتْ: فَخَطَبَنِي أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ أَخُو بَنِي عَبْدِ الدَّارِ , فَتَهَيَّأْتُ لِلنِّكَاحِ , قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ حَمَوَيَّ , وَقَدْ اخْتَضَبْتُ وَتَهَيَّأْتُ , فَقَالَ: مَاذَا تُرِيدِينَ يَا سُبَيْعَةُ؟ قَالَتْ: فَقُلْتُ: أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ , قَالَ: وَاللَّهِ مَا لَكِ مِنْ زَوْجٍ حَتَّى تَعْتَدِّينَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا , قَالَتْ: فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي: " قَدْ حَلَلْتِ , فَتَزَوَّجِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوالسنابل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سبیعہ کے یہاں اپنے شوہر کی وفات کے صرف 23 یا 25 دن بعد ہی بچے کی ولادت ہو گئی اور وہ دوسرے رشتے کے لئے تیار ہونے لگیں، نفاس سے فراغت کے بعد ابوالسنابل کی ان سے ملاقات ہوئی، تو انہوں نے سرمہ لگا رکھا تھا، ابوالسنابل نے کہا کہ اپنے اوپر قابو رکھو شاید تم دوسرا نکاح کرنا چاہتی ہو؟ یاد رکھو! تمہارے شوہر کی وفات کے بعد تمہاری عدت چار مہینے دس دن ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور ان سے ابوالسنابل کی بات ذکر کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم وضع حمل کے بعد حلال ہو چکی ہو۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27438]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن