أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرَةَ ، دُرَّةَ بِنْتِ أَبِي لَهَبٍ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ , عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرَةَ , عَنْ دُرَّةَ بِنْتِ أَبِي لَهَبٍ , قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ , فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" ائْتُونِي بِوَضُوءٍ" , قَالَتْ: فَابْتَدَرْتُ أَنَا وَعَائِشَةُ الْكُوزَ , فَأَخَذْتُهُ أَنَا , فَتَوَضَّأَ , فَرَفَعَ بَصَرَهُ إِلَيَّ أَوْ طَرْفَهُ إِلَيَّ , وَقَالَ:" أَنْتِ مِنِّي وَأَنَا مِنْكِ" , قَالَتْ: فَأُتِيَ بِرَجُلٍ , فَقَالَ: مَا أَنَا فَعَلْتُهُ , إِنَّمَا قِيلَ لِي , قَالَتْ: وَكَانَ سَأَلَهُ عَلَى الْمِنْبَرِ مَنْ خَيْرُ النَّاسِ؟ فَقَالَ: " أَفْقَهُهُمْ فِي دِينِ اللَّهِ , وَأَوْصَلُهُمْ لِرَحِمِهِ" , ذَكَرَ فِيهِ شَرِيكٌ شَيْئَيْنِ آخَرَيْنِ لَمْ أَحْفَظْهُمَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت درہ بنت ابی لہب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے اور فرمایا: ”میرے پاس وضو کا پانی لاؤ“، میں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک برتن کی طرف تیزی سے بڑھے، میں پہلے پہنچ گئی اور اسے لے آئی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا اور نگاہیں اٹھا کر مجھ سے فرمایا: ”تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں“، پھر ایک آدمی کو لایا گیا، اس نے کہا: میں نے یہ کام نہیں کیا بلکہ لوگوں نے مجھ سے کہا تھا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے برسر منبر یہ سوال کیا تھا کہ لوگوں میں سب سے بہترین کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کے دین کی سب سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہو اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ہو۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27433]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شريك واختلف فيه على شريك فى إسناده و متنه، ولجهالة عبدالله بن عميرة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شريك واختلف فيه على شريك فى إسناده و متنه، ولجهالة عبدالله بن عميرة