أَبُو كَامِلٍ ، زُهَيْرٌ ، عَبْدُ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيُّ ، الْبَرَاءِ ابْنِ بِنْتِ أَنَسٍ ، أَنَسٍ ، أُمِّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيُّ , عَنِ الْبَرَاءِ ابْنِ بِنْتِ أَنَسٍ , عَنْ أَنَسٍ , عَنْ أُمِّهِ , قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَيْتِ قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ , " فَشَرِبَ مِنْهَا قَائِمًا" , فَقَطَعْتُ فَاهَا , وَإِنَّهُ لَعِنْدِي .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے، ان کے گھر میں ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے کھڑے اس مشکیزے سے منہ لگا کر پانی پیا، بعد میں میں نے اس مشکیزے کا منہ (جس سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منہ لگا کر پانی پیا تھا) کاٹ کر اپنے پاس رکھ لیا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27430]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة البراء بن زيد
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة البراء بن زيد