إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، مَعْمَرٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، أُمِّ حَبِيبَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ مَعْمَرٍ . وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ , أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ وَكَانَ أَتَى النَّجَاشِيَّ , وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ: وَكَانَ رَحَلَ إِلَى النَّجَاشِيِّ فَمَاتَ , وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَزَوَّجَ أُمَّ حَبِيبَةَ , وَإِنَّهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ , زَوَّجَهَا إِيَّاهُ النَّجَاشِيُّ , وَمَهَرَهَا أَرْبَعَةَ آلَافٍ , ثُمَّ جَهَّزَهَا مِنْ عِنْدِهِ , وَبَعَثَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ شُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ , وَجِهَازُهَا كُلُّهُ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ , وَلَمْ يُرْسِلْ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ , وَكَانَ مُهُورُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ مِائَةِ دِرْهَمٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ عبیداللہ بن جحش کے نکاح میں تھیں، ایک مرتبہ عبیداللہ نجاشی کے یہاں گئے اور وہیں فوت ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیا، اس وقت وہ ملک حبش میں ہی تھیں، نجاشی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وکیل بن کر ان سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نکاح کرا دیا اور انہیں چار ہزار درہم مہر کے دئیے اور انہیں اپنے یہاں سے رخصت کر دیا اور حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں روانہ کر دیا، یہ سب تیاریاں نجاشی کے یہاں ہوئی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے پاس کچھ نہیں بھیجا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج مطہرات کے مہر چار سو درہم رہے ہیں۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27408]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، وقد اختلف فى اسناد على الزهري
الحكم: رجاله ثقات، وقد اختلف فى اسناد على الزهري