عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ، وَيَقُولُ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَ حَفِيًّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سوید بن غفلہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کو بوسہ دے رہے ہیں اور اس سے مخاطب ہو کر فرما رہے ہیں، میں جانتا ہوں کہ تو محض ایک پتھر ہے جو کسی کو نفع نقصان نہیں پہنچا سکتا لیکن میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تجھ پر مہربان دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 274]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1597، م: 1271
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1597، م: 1271