عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، أُمَّ هَانِئٍ
حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ , قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنْ صَلَاةِ الضُّحَى , فَقَالَ: سَأَلْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا , فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُخْبِرُنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهَا , إِلَّا أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ أَخْبَرَتْنِي , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ عَلَيْهَا , فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ , فَلَمْ أَرَهُ صَلَّى قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن حارث رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مختلف صحابہ رضی اللہ عنہم سے چاشت کی نماز کے متعلق پوچھا، لیکن حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے علاوہ مجھے کسی نے یہ نہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ نماز پڑھی ہے، البتہ وہ بتاتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے یہاں آئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آٹھ رکعتیں پڑھیں، میں نے انہیں یہ نماز نہ پہلے پڑھتے ہوئے دیکھا اور نہ اس کے بعد۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27391]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد