بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 27386
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 27386
حدیث نمبر: 27386 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، زُهَيْرٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، يُوسُفُ بْنُ مَاهَكَ ، أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ مَاهَكَ , أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ , فَسَأَلَهَا عَنْ مَدْخَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ , فَسَأَلَهَا: هَلْ صَلَّى عِنْدَكِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: " دَخَلَ فِي الضُّحَى , فَسَكَبْتُ لَهُ فِي صَحْفَةٍ لَنَا مَاءً , إِنِّي لَأَرَى فِيهَا وَضَرَ الْعَجِينِ , قَالَ يُوسُفُ: مَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ أَخْبَرَتْنِي أَتَوَضَّأَ أَمْ اغْتَسَلَ , ثُمَّ رَكَعَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ مَسْجِدٍ فِي بَيْتِهَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ" , قَالَ يُوسُفُ: فَقُمْتُ , فَتَوَضَّأْتُ مِنْ قِرْبَةٍ لَهَا , وَصَلَّيْتُ فِي ذَاكَ الْمَسْجِدِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یوسف بن ماہک ایک مرتبہ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فتح مکہ کے دن مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے متعلق پوچھا اور یہ کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس وقت آپ کے یہاں نماز پڑھی تھی؟ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چاشت کے وقت مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، میں نے پیالے میں پانی رکھا جس پر آٹے کے نشان نظر آ رہے تھے، اب یہ مجھے یاد نہیں کہ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا نے وضو کرنے کا بتایا تھا یا غسل کرنے کا؟ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھر کی مسجد میں چار رکعتیں پڑھیں۔ یوسف کہتے ہیں کہ میں نے بھی اٹھ کر ان کے مشکیزے سے وضو کیا اور اسی جگہ پر چار رکعتیں پڑھیں۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27386]
حکم دارالسلام
حديث ضعيف بهذه السياقة، فقد تفرد بها عبدالله بن عثمان، وهو مختلف فيه، فمثله لا يحتمل تفرده
الحكم: حديث ضعيف بهذه السياقة، فقد تفرد بها عبدالله بن عثمان، وهو مختلف فيه، فمثله لا يحتمل تفرده
← پچھلی حدیث (27385) باب پر واپس اگلی حدیث (27387) →