مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، رَجُلٍ ، سَلْمَى بِنْتِ قَيْسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ , عَنْ أُمِّهِ سَلْمَى بِنْتِ قَيْسٍ , قَالَتْ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ , قَالَتْ: كَانَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا: أَنْ لَا تَغُشَّنَّ أَزْوَاجَكُنَّ , قَالَتْ: فَلَمَّا انْصَرَفْنَا , قُلْنَا: وَاللَّهِ لَوْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غِشُّ أَزْوَاجِنَا؟ قَالَتْ: فَرَجَعْنَا فَسَأَلْنَاهُ , قَالَ: " أَنْ تُحَابِينَ أَوْ تُهَادِينَ بِمَالِهِ غَيْرَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمیٰ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے کچھ انصاری عورتوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیعت کی تو منجملہ شرائط بیعت کے ایک شرط یہ بھی تھی کہ تم اپنے شوہروں کو دھوکہ نہیں دو گی، جب ہم واپس آنے لگے تو خیال آیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہی پوچھ لیتے کہ شوہروں کو دھوکہ دینے سے کیا مراد ہے؟ چنانچہ ہم نے پلٹ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھ لیا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے شوہر کا مال کسی دوسرے کو ہدیہ کے طور پر دے دینا۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27375]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الرجل المبهم من الأنصار هو سليط بن أيوب، وهو مجهول، وأمه لم نقف لها على ترجمة، وقد اختلف فيه على ابن إسحاق
الحكم: إسناده ضعيف، الرجل المبهم من الأنصار هو سليط بن أيوب، وهو مجهول، وأمه لم نقف لها على ترجمة، وقد اختلف فيه على ابن إسحاق