بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 27366
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 27366
حدیث نمبر: 27366 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ الصَّمَدِ ، دَيْلَمٌ أَبُو غَالِبٍ الْقَطَّانُ ، الْحَكَمُ بْنُ جَحْلٍ ، أُمُّ الْكِرَامِ ، امْرَأَةً
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: حَدَّثَنِي دَيْلَمٌ أَبُو غَالِبٍ الْقَطَّانُ , قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ جَحْلٍ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ الْكِرَامِ , أَنَّهَا حَجَّتْ , قَالَتْ: فَلَقِيتُ امْرَأَةً بِمَكَّةَ كَثِيرَةَ الْحَشَمِ , لَيْسَ عَلَيْهِنَّ حُلِيٌّ إِلَّا الْفِضَّةُ , فَقُلْتُ لَهَا: مَا لِي لَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ مِنْ حَشَمِكِ حُلِيًّا إِلَّا الْفِضَّةَ؟ قَالَتْ: كَانَ جَدِّي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ , عَلَيَّ قُرْطَانِ مِنْ ذَهَبٍ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شِهَابَانِ مِنْ نَارٍ" , فَنَحْنُ أَهْلَ الْبَيْتِ , لَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا يَلْبَسُ حُلِيًّا إِلَّا الْفِضَّةَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام کرام کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حج پر گئیں وہاں ایک عورت سے مکہ مکرمہ میں ملاقات ہوئی، جس کے ساتھ بہت سی خادمائیں تھیں لیکن ان میں سے کسی پر بھی چاندی کے علاوہ کوئی زیور نہ تھا، میں نے اس سے کہا کہ کیا بات ہے مجھے آپ کی خادمہ پر سوائے چاندی کے کوئی زیور نظر نہیں آ رہا، اس نے کہا: میرے دادا ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں خاضر ہوئے، میں بھی ان کے ساتھ تھی اور میں نے سونے کی دو بالیاں پہن رکھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ آگ کے دو شعلے ہیں، اس وقت سے ہمارے گھر میں کوئی عورت بھی چاندی کے علاوہ کوئی زیور نہیں پہنتی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27366]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أم الكرام
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أم الكرام
← پچھلی حدیث (27365) باب پر واپس اگلی حدیث (27367) →