بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 27351
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 27351
حدیث نمبر: 27351 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، شَرِيكُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ ، الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، امْرَأَةٌ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ , عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ , عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهِيَ حَيَّةٌ الْيَوْمَ , إِنْ شِئْتَ أَدْخَلْتُكَ عَلَيْهَا , قُلْتُ: لَا , قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ , فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَأَنَّهُ غَضْبَانُ , فَاسْتَتَرْتُ بِكُمِّ دِرْعِي , فَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ لَمْ أَفْهَمْهُ , فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , كَأَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضْبَانَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ , أَوَمَا سَمِعْتِيهِ؟ قَالَتْ: قُلْتُ: وَمَا قَالَ؟ قَالَتْ: قَالَ: " إِنَّ السُّوءَ إِذَا فَشَا فِي الْأَرْضِ , فَلَمْ يُتَنَاهَ عَنْهُ , أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَأْسَهُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ" , قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَفِيهِمْ الصَّالِحُونَ؟! قَالَ:" نَعَمْ , وَفِيهِمْ الصَّالِحُونَ , يُصِيبُهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ , ثُمَّ يَقْبِضُهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى مَغْفِرَتِهِ وَرَحْمَتِهِ أَوْ إِلَى رَحْمَتِهِ وَمَغْفِرَتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حسن بن محمد کہتے کہ مجھے انصار کی ایک عورت نے بتایا ہے وہ اب بھی زندہ ہیں، اگر تم چاہو تو ان سے پوچھ سکتے ہو اور میں تمہیں ان کے پاس لے چلتا ہوں، راوی نے کہا نہیں، آپ خود ہی بیان کر دیجئے کہ میں ایک مرتبہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ان کے یہاں تشریف لے آئے اور یوں محسوس ہو رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غصے میں ہیں، میں نے اپنی قمیص کی آستین سے پردہ کر لیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوئی بات کی جو مجھے سمجھ نہیں آئی، میں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ ام المومنین! میں دیکھ رہی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غصے کی حالت میں تشریف لائے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! کیا تم نے ان کی بات سنی ہے؟ میں نے پوچھا کہ انہوں نے کیا فرمایا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے: جب زمین میں شر پھیل جائے گا تو اسے روکا نہ جا سکے گا اور پھر اللہ اہل زمین پر اپنا عذ اب بھیج دے گا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس میں نیک لوگ بھی شامل ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اس میں نیک لوگ بھی شامل ہوں گے اور ان پر بھی وہی آفت آئے گی جو عام لوگوں پر آئے گی، پھر اللہ تعالیٰ انہیں کھینچ کر اپنی مغفرت اور خوشنودی کی طرف لے جائے گا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27351]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شريك بن عبدالله ولاضطرابه فيه
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شريك بن عبدالله ولاضطرابه فيه
← پچھلی حدیث (27350) باب پر واپس اگلی حدیث (27352) →