هُشَيْمٌ ، مُجَالِدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ مُجَالِدٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ , أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ , فَخَاصَمَتْهُ فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: فَلَمْ يَجْعَلْ سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً , وَقَالَ:" يَا بِنْتَ آلِ قَيْسٍ , إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ عَلَى مَنْ كَانَتْ لَهُ رَجْعَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دیں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے لئے رہائش اور نفقہ مقرر نہیں فرمایا اور فرمایا کہ اے بنت آل قیس! رہائش اور نفقہ اسے ملتا ہے جس سے رجوع کیا جا سکتا ہو۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27340]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله : يا بنت آل قيس .. كانت له رجعة ، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد، وقد توبع، وهشيم مدلس، وقد عنعن، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح دون قوله : يا بنت آل قيس .. كانت له رجعة ، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد، وقد توبع، وهشيم مدلس، وقد عنعن، وقد توبع