عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، هِشَامٌ ، وحَبِيبٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أُمِّ عَطِيَّةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , وحَبِيبٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ فِيمَا أَخَذَ أَنْ لَا يَنُحْنَ" , فَقَالَتْ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ امْرَأَةً أَسْعَدَتْنِي , أَفَلَا أُسْعِدُهَا؟ فَقَبَضَتْ يَدَهَا , وَقَبَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ , فَلَمْ يُبَايِعْهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: «عَلَى أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا» تو اس میں نوحہ بھی شامل تھا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فلاں خاندان والوں کو مستثنیٰ کر دیجیے کیونکہ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں نوحہ کرنے میں میری مدد کی تھی، لہٰذا میرے لئے ضروری ہے کہ میں بھی ان کی مدد کروں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور اس وقت ان سے بیعت نہیں لی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27308]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1306، م: 936
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1306، م: 936