أَبُو نُعَيْمٍ ، الْوَلِيدُ ، جَدَّتِي ، أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي , عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ , وَكَانَتْ قَدْ جَمَعَتْ الْقُرْآنَ , وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ " أَمَرَهَا أَنْ تَؤُمَّ أَهْلَ دَارِهَا" , وَكَانَ لَهَا مُؤَذِّنٌ , وَكَانَتْ تَؤُمُّ أَهْلَ دَارِهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ورقہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے قرآن کریم مکمل یاد کر رکھا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اپنے اہل خانہ کی امامت کرانے کی اجازت دے رکھی تھی، ان کے لئے ایک مؤذن مقرر تھا اور وہ اپنے اہل خانہ کی امامت کیا کرتی تھیں۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27283]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة جدة الوليد
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة جدة الوليد