رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، يَحْيَى بْنَ حُصَيْنٍ ، جَدَّتِي
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ حُصَيْنٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَدَّتِي , تَقُولُ: سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ يَخْطُبُ , يَقُولُ: " غَفَرَ اللَّهُ لِلْمُحَلِّقِينَ"، ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ؟ فَقَالَ:" وَالْمُقَصِّرِينَ" , فِي الرَّابِعَةِ . قَالَتْ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " إِنْ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ، فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یحیٰی بن حصین اپنی دادی سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تین مرتبہ یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حلق کرانے والوں پر اللہ کی رحمتین نازل ہوں، تیسری مرتبہ لوگوں نے قصر کرنے والوں کو بھی دعا میں شامل کرنے کی درخواست کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بھی شامل کر لیا۔ اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم پر کسی غلام کو بھی مقرر کر دیا جائے، جو تمہیں کتاب اللہ کے مطابق لے کر چلتا رہے تو تم اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27264]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1838، 1303
الحكم: إسناده صحيح، م: 1838، 1303