بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 27237
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 27237
حدیث نمبر: 27237 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَكِيعٌ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي بَصْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّا غَادُونَ عَلَى يَهُودَ، فَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ، فَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ، فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کل میں سوار ہو کر یہودیوں کے یہاں جاؤں گا، لہٰذا تم انہیں ابتداء سلام نہ کرنا اور جب وہ تمہیں سلام کریں تو تم صرف «وعليكم» کہنا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27237]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد وهم فيه وكيع، فلم يذكر مرثدا بين يزيد و بين أبى بصرة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد وهم فيه وكيع، فلم يذكر مرثدا بين يزيد و بين أبى بصرة
← پچھلی حدیث (27236) باب پر واپس اگلی حدیث (27238) →