أَبُو عَاصِمٍ ، عَبْدِ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ يَوْمًا: " إِنِّي رَاكِبٌ إِلَى يَهُودَ، فَمَنْ انْطَلَقَ مَعِي، فَإِنْ سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ، فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ"، فَانْطَلَقْنَا , فَلَمَّا جِئْنَاهُمْ، وَسَلَّمُوا عَلَيْنَا، فَقُلْنَا وَعَلَيْكُمْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کل میں سوار ہو کر یہودیوں کے یہاں جاؤں گا، لہٰذا تم انہیں ابتداء سلام نہ کرنا اور جب وہ تمہیں سلام کریں تو تم صرف «وعليكم» کہنا“، چنانچہ جب ہم وہاں پہنچے اور انہوں نے ہمیں سلام کیا تو ہم نے صرف «وعليكم» کہا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27235]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقد اختلف فى هذا الإسناد على عبدالحميد بن جعفر
الحكم: حديث صحيح، وقد اختلف فى هذا الإسناد على عبدالحميد بن جعفر