يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا هَاجَرْتُ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ أُسْلِمَ، فَحَلَبَ لِي شُوَيْهَةً كَانَ يَحْتَلِبُهَا لِأَهْلِهِ فَشَرِبْتُهَا، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ، أَسْلَمْتُ، وَقَالَ عِيَالُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَبِيتُ اللَّيْلَةَ كَمَا بِتْنَا الْبَارِحَةَ جِيَاعًا، فَحَلَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً، فَشَرِبْتُهَا وَرَوِيتُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَوِيتَ" , فقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ رَوِيتُ، مَا شَبِعْتُ وَلَا رَوِيتُ قَبْلَ الْيَوْمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ، وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں قبول اسلام سے پہلے ہجرت کر کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک بکری کا دودھ مجھے دوہ کر دیا، جسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے اہل خانہ کے لئے دوہتے تھے۔ میں نے اسے پی لیا اور صبح ہوتے ہی اسلام قبول کر لیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہل خانہ آپس میں باتیں کرنے لگے کہ ہمیں کل کی طرح آج بھی بھوکا رہ کر گزارہ کرنا پڑے گا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آج بھی مجھے دودھ عطاء فرمایا میں نے اسے پیا اور سیراب ہو گیا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تم سیراب ہو گے؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آج میں اس طرح سیراب ہوا ہوں کہ اس سے پہلے کبھی اس طرح سیراب ہوا اور نہ پیٹ بھرا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے اور مومن ایک آنت میں کھاتا ہے۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27226]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن