يُونُسُ ، لَيْثٌ ، أَبِي وَهْبٍ الْخَوْلَانِيِّ ، رَجُلٍ قَدْ سَمَّاهُ ، أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ قَدْ سَمَّاهُ ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَرْبَعًا، فَأَعْطَانِي ثَلَاثًا، وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً، سَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يَجْمَعَ أُمَّتِي عَلَى ضَلَالَةٍ، فَأَعْطَانِيهَا , وَسَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لا يُظْهِرَ عليهم عدوًّا من غيرهم، فأعطانيها، وسألتُ الله عزَّ وجلَّ أَنْ لا يظهر عليهم عدوًا من غيرهم , فأعطانيها , وسألت الله عز وجل أن لَا يُهْلِكَهُمْ بِالسِّنِينَ، كَمَا أَهْلَكَ الْأُمَمَ قَبْلَهُمْ، فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا، وَيُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ، فَمَنَعَنِيهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لئے چار دعائیں کیں جن میں سے تین اس نے مجھے عطا فرما دیں اور ایک روک لی، میں نے اس سے یہ درخواست کی کہ وہ اسے عام قحط سالی سے ہلاک نہ کرے اور انہیں مختلف فرقوں میں تقسیم کر کے ایک دوسرے کا مزہ چکھائے، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے روک دیا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27224]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لابهام الراوي عن أبى بصرة. أبو بصرة وهو وهم، صوابه: أبو هانئ
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لابهام الراوي عن أبى بصرة. أبو بصرة وهو وهم، صوابه: أبو هانئ