بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 27192
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 27192
حدیث نمبر: 27192 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو مُعَاوِيَةُ ، أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، مَنْبُوذٌ ، الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي رَافِعٍ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْبُوذٌ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي رَافِعٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ، رُبَّمَا ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، فَيَتَحَدَّثُ حَتَّى يَنْحَدِرَ لِلْمَغْرِبِ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ: فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْرِعًا إِلَى الْمَغْرِبِ , إِذْ مَرَّ بِالْبَقِيعِ، فَقَالَ:" أُفٍّ لَكَ , أُفٍّ لَكَ" , مَرَّتَيْنِ , فَكَبُرَ فِي ذَرْعِي وَتَأَخَّرْتُ، وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُنِي، فَقَالَ:" مَا لَكَ؟! امْشِ"، قَالَ: قُلْتُ: أَحْدَثْتُ حَدَثًا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَمَا ذَاكَ؟" , قُلْتُ: أَفَّفْتَ بِي، قَالَ: " لَا، وَلَكِنَّ هَذَا قَبْرُ فُلَانٍ، بَعَثْتُهُ سَاعِيًا عَلَى بَنِي فُلَانٍ، فَغَلَّ نَمِرَةً، فَدُرِّعَ الْآنَ مِثْلَهَا مِنْ نَارٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز عصر پڑھنے کے بعد بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بنو عبد الاشہل کے یہاں چلے جاتے تھے اور ان کے ساتھ باتیں فرماتے تھے اور مغرب کے وقت وہاں سے واپس آتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تیزی سے نماز مغرب کے لئے واپس آ رہے تھے کہ جنت البقیع سے گزر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: تم پر افسوس ہے۔ (میں چونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھا اس لئے)، میرے ذہن پر اس بات کا بہت بوجھ ہوا اور میں پیچھے ہو گیا کیونکہ میں یہ سمجھ رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مراد میں ہی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ چلتے رہو۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا مجھ سے کوئی گناہ سرزد ہو گیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا مطلب؟ میں نے عرض کیا کہ آپ نے مجھ پر (دومرتبہ) «تف» کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، دراصل یہ تو میں نے فلاں آدمی کی قبر پر کہا تھا، جسے میں نے زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے فلاں قبیلے میں بھیجا تھا، اس نے خیانت کر کے ایک چادر چھپا لی تھی، اب ویسے ہی آگ کی چادرا سے پہنائی جا رہی ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27192]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال منبوذ، و فى سماع الفضل بن عبيد الله بن أبى رافع من جده نظر
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال منبوذ، و فى سماع الفضل بن عبيد الله بن أبى رافع من جده نظر
← پچھلی حدیث (27191) باب پر واپس اگلی حدیث (27193) →